بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکی وزیر خزانہ کے نعروں اور دعوؤں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا: امریکی وزیر خزانہ، اسکاٹ بیسنٹ کو امریکہ میں ایک "جھوٹے وزیر" کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے متعدد بیانات جاری کئے، اور وعدے کئے، لیکن عملی طور پر ان میں ناکام رہا۔
انھوں نے کہا: بطور مثال، بیسنٹ نے اعلان کیا کہ امریکہ کی ہاؤسنگ مارکیٹ کو جمود سے نکالے گا، لیکن صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ کہا کہ افراط زر کو کم کرے گا، لیکن افراط زر میں اضافہ کیا۔ پھر کہا کہ امریکی بانڈز کی سود کی شرح کم کرے گا، لیکن یہ شرح مزید بڑھ کر ایک فیصد سے پانچ فیصد تک پہنچ گئی۔
جنرل رضائی نے کہا: اگرچہ امریکہ کی معیشت اور مالی پالیسیاں بیسنٹ کے اختیار میں تھیں، لیکن وہ اپنے زیر انتظام ترتیبات کا انتظام نہیں کر سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اب بھی ٹرمپ انتظآمیہ کو امریکی ملازمین اور فوجیوں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لئے بجٹ کی کمی کا سامنا ہے، بیسنٹ مسلسل بانڈز جاری کرکے فروخت کرتا ہے تاکہ مارکیٹ سے پیسہ جمع کر کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کر سکے!
جنرل رضائی نے کہا: آج یہ شخص ایرانی قوم سے ٹکرانا چاہتا ہے اور ایرانیوں کی معیشت اور دسترخوان کے خلاف جنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ذلت آمیز شکست کا سامنا کرے گا۔
امریکہ کو اقتصادی جنگ میں بھی شکست دیں گے جیسا کہ فوجی جنگ میں اس کو شکست دی
میجر جنرل رضایی نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ تصادم میں بار بار شکستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی مایوسی کے عالم میں اقتصادی جنگ کی طرف آئے ہیں، لیکن جیسا کہ وہ فوجی جنگ میں شکست کھا گئے، ہم انہیں اقتصادی جنگ میں بھی شکست دیں گے۔
انھوں نے کہا: ہم نے اپنے منصوبے پہلے سے تیار کر لئے ہیں اور ان شاء اللہ جلد ہی اقتصادی دفاع کی ترتیب کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
اقتصادی جنگ کونسل کے قیام کی تجویز زیر غور
ڈآکٹر رضائی نے کہا: "اقتصادی جنگ کونسل" کے قیام کی تجویز زیر غور ہے، اس پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں؛ اور ممکنہ طور پر یہ کونسل قائم ہوگی۔ ہم ٹرمپ اور بیسنٹ کو دکھائیں گے کہ اقتصادی جنگ کا حقیقی مطلب کیا ہے اور وہ اس معرکے میں کس مقام پر کھڑے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ